کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 33
سرفراز خان صفدر [نصرۃ العلوم،گوجرانوالہ] نے اپنی کتاب المنہاج الواضح المعروف بہ ‘’راہ ِسنت’‘ لکھی ہے۔ اس کتاب میں شیخ الحدیث موصوف نے بھی ان مخصوص امور کا جواب دیا ہے جن کی زد براہ ِ راست دیوبندی حضرات پر بھی پڑتی تھی۔ ’’جاء الحق‘‘ کا حصہ دوم اپنے سرورق پر یہ تحریر لیٔے ہوئے ہے: ’’جس میں موجودہ دور کے غیر مقلّد وہّابیوں کے مختلف فیہ مسائل کا نہایت مدلّل فیصلہ کر دیا گیا ہے۔‘‘ نہ معلوم اس حصّے کا تعاقب و جواب متعلقہ حضرات میں سے کسی کی طرف سے دیا گیا ہے یا نہیں؟ اور اگر دیا گیا ہے تو تاحال ہماری نظر سے نہیں گزرا۔ غرض ’’جاء الحق‘‘ کے مدلِّل فیصلوں کا اندازہ اسی بات سے کیا جاسکتا ہے کہ حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی اِس حدیث ِمذکورہ،جسے ذکر کردہ محدّثین کرام ؒ نے صحیح و قوّی قرار دیا ہے،اس کی سند کے ایک راوی عبد الحمید بن جعفر کو سخت مجروح،اوردوسرے راوی محمد بن عَمرو بن عطاء کے بارے میں کہہ دیا ہے کہ ان کی حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہی نہیں ہوئی اور کہہ دیا ہے کہ ’’میں نے ان سے سنا ہے۔‘‘ یہ غلط ہے،درمیان میں کوئی راوی چھوٹ گیا ہے جو مجہول ہے،چنانچہ موصوف نے اپنی اس کتاب ’’جاء الحق’‘کے(ص: ۶۳۔۶۴ )پر لکھا ہے : ’’ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی روایت میں عبد الحمید بن جعفر اور محمد بن عَمرو بن عطاء ایسے غیرمعتبر راوی ہیں کہ خدا کی پناہ۔‘‘ چنانچہ امام ما روی (کتاب میں ایسے ہی لکھا ہے حالانکہ صحیح ماردینی ہے ) نے جوہرنقی میں فرمایا ہے : ’’عبد الحمید منکر الحدیث ہے‘‘،یہ امام ’’ماروي‘‘وہ ہیں جنہیں یحییٰ بن سعید