کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 31
لے لیتیں،پھرقراء ت فرماتے،پھر تکبیر کہتے اور کندھوں تک دونوں ہاتھ اٹھاتے،پھر رکوع فرماتے اور اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو گُھٹنوں پر رکھتے اور کمر کو برابر کرتے،سرِاقدس نہ زیادہ جھکا ہوا ہوتا نہ زیادہ اٹھا ہوا،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر اٹھاتے اور کہتے :(سَمِعَ اللّٰہُ ِلمَنْ حَمِدَہٗ)،اور پھر دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے اور سیدھے کھڑے ہو جاتے …الخ،اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور کندھوں تک ہاتھ اٹھاتے،جیسا کہ نماز کے شروع میں تکبیرکہتے وقت کرتے تھے …الخ۔‘‘ اس سے آگے مذکور ہے کہ جب وہ تشہّد بیٹھنے تک ساری [نمازِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ] کا طریقہ بیان کرچکے،تو ان سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیک زبان یہ کہا : ((صَدَقْتَ،ھٰکَذَا کَانَ یُصَلِّيْ صلي اللّٰه عليه وسلم ))۔  ’’آپ نے سچ فرمایا،نبی ا اسی طرح ہی نماز پڑھا کرتے تھے۔‘‘ اس حدیث کو امام نووی نے شرح صحیح مسلم(۲/۴/۹۵) میں،علّامہ ابن قیّم نے تہذیب السنن(۲/۴۱۶۔۴۲۶ علی عون المعبود) میں اور امام ابن حبان و ابن خزیمہ نے اپنی اپنی صحیح میں صحیح کہا ہے۔ جبکہ علل الحدیث میں ابو حاتم نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔ فتح الباری میں حافظ ابن حجرعسقلانی نے امام ابن حبان و ابن خزیمہ کی تصحیح نقل کرکے اسے بر قرار رکھا ہے۔