کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 29
’’کندھوں یا کانوں تک ہاتھوں کو اٹھانے کا پتہ دینے والی احادیث میں کوئی تعارض و تضاد نہیں ہے۔ بعض علماء نے ان میں موافقت پیدا کرنے کے لئے بڑی شرح و بسط سے لکھا ہے،حالانکہ اس کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی،کیونکہ موافقت تو وہاں پیدا کی جاتی ہے،جہاں تعارض و تضاد ہو،جبکہ یہاں اصلاً تعارض ہے ہی نہیں۔‘‘ غرض ان دونوں طرح کی احادیث میں کوئی تعارض نہ ہونے کے باوجود مقدار ِ رفع کے بارے میں حضرت وائل رضی اللہ عنہ کی اِس حدیث کو ترجیح دی جاتی ہے۔اور اس پر طُرفہ یہ کہ جب اِسی حدیث سے رکوع کے اوّل و آخر والی رفع یدین کو ثابت کریں،تو اس پر بھی جرحیں اور انتقادات شروع ہوجاتی ہیں،حالانکہ یہ وہی حدیث ہے جسے مقدار ِ رفع کیلئے خود صحیح بخاری کی حدیث پر بھی ترجیح دی گئی ہے۔ چوتھی دلیل: قائلین ِ رفع یدین کی چوتھی دلیل وہ حدیث ہے جو جزء رفع الیدین امام بخاری،ابو داؤد،ابن ماجہ،بیہقی،صحیح ابن خزیمہ،ابن حبان،مسندامام احمد،محلّٰی ابن حزم اور دوسری کتب میں حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،جس میں دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں وہ کہتے ہیں : (( أَنَا کُنْتُ أَحْفَظُکُمْ لِصَلوٰۃِ رَسُوْل ِاللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم ))۔  ‘’مجھے تم سب کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ زیادہ یاد ہے۔‘‘ بعض روایات میں ہے : (( أَنَا أَعْلَمُکُمْ بِصَلوٰۃِ رَسُولِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم ))۔  ‘’میں تم سب سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ جانتا ہوں۔‘‘