کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 25
‘’انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نماز شروع کی تو تکبیر کہتے وقت رفع یدین کی،اور ہمّام نے رفع یدین کا طریقہ بھی بیان کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کو کانوں تک اُٹھایا،پھر چادر لپیٹ لی اور دائیں ہاتھ کو بائیں پر باندھ لیا،اور جب رکوع کا ارادہ فرمایا تو ہاتھوں کو کپڑے سے نکالا اور رفع یدین کی اور تکبیر کہتے ہوئے رکوع کیا،اور جب سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہا تو رفع یدین کی اور جب سجدہ کیا،تو پیشانی کو دونوں ہاتھوں کے درمیان رکھا۔‘‘ یہ حدیث بھی اس بات کی بیّن دلیل ہے کہ رفع یدین منسوخ نہیں ہوئی بلکہ یہ ایک سنتِ ثابتہ ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو اس حدیث کا صیغہ دوام پر دلالت کر رہا ہے،دوسرے یہ کہ حضرت وائل بن حُجر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات ِ طیّبہ کے آخری سال کے قریب مسلمان ہوئے تھے جیسا کہ علّامہ بدر الدین عینی حنفی نے عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے : ( وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ أَسْلَمَ فِيْ الْمَدِینَۃِ سَنَۃَ تِسْع ٍمِنَ الْھِجْرَۃِ)۔ ‘’حضرت وائل بن حُجر رضی اللہ عنہ ۹ھ ؁میں مدینہ منورہ میں مسلمان ہوئے۔‘‘ اس حدیث کی سند کے ایک راوی عاصم بن کلیب پر کلام کیا گیا ہے،لیکن وہ محض تفرّد کی صورت میں قابل ِ حجّت نہیں،جبکہ اس حدیث میں ایسا نہیں۔ عاصم متفرّد نہیں بلکہ ان کی متابعت علقمہ بن وائل نے بھی کی ہے،جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے۔اور اس کا صحیح مسلم میں آجانا ہی اس کی صحت کے لیٔے کافی ہے۔ اور پھر اس سنت کو بیان کرنے والے صرف حضرت وائل رضی اللہ عنہ ہی نہیں،بلکہ صدیق و فاروق رضی اللہ عنہ اور دوسرے بکثرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی ہیں،جیسا کہ تفصیل ذکر کی جا چکی ہے۔ لہٰذا اب کسی کے اس قول میں کوئی جان باقی نہیں رہ جاتی کہ :