کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 23
ہے۔ اور کیوں نہ ہو،جبکہ انہی حضرت مالک رضی اللہ عنہ نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جلسۂ استراحت روایت کیا،تو اُسے انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری عمر کا عمل ہونے پر محمول کیا کہ یہ [مجبوراً تھا] قصداً نہیں تھا،لہٰذا ان کے نزدیک وہ سنت نہ ہوا،اس بناء پر حضرت مالک رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ رفع یدین کو سنّت ِ ثابتہ ہونا چاہئیے،نہ کہ منسوخ،کیونکہ یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری عمر کا عمل ہے۔ پس منسوخ ماننے والا قول تناقض کے قریب قریب ہے،اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مالک رضی اللہ عنہ اور اپنے دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا تھا: ‘’تم اس طرح نماز پڑھو،جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔‘‘ جبکہ سنن ابن ماجہ کے حاشیہ میں علّامہ سندھی ؒ حنفی لکھتے ہیں : ( فَاِنْ کَانَ ھُنَاکَ نَسْخٌ فَیَنْبَغِيْ أَنْ یَّکُوْنَ الْمَنْسُوْخُ تَرْکَ الرَّفْعِ،وَبِالْجُمْلَۃِ فَالْأَقْرَبُ بِاِسْتِنَانِ الْأَمْرَیْنِ،وَالرَّفْعُ أَقْویٰ وَأَکْثَرُ )۔  ‘’اگر کہیں نسخ واقع ہوا ہے تو وہ ترک ِ رفع یدین میں ہونا چاہئیے۔ اور بالجملہ دونوں کو مسنون کہنا ہی اقرب ہے،جبکہ رفع یدین کرنے کی احادیث قوّی اور بکثرت ہیں۔‘‘ حاشیہ نسائی میں ایک جگہ لکھا ہے : ( فَالسُّنَّۃُ ھِيَ الرَّفْعُ لَا التَّرْکُ )۔  ‘’پس سنت،رفع یدین کرنا ہے نہ کہ ترک ِ رفع یدین۔‘‘ تیسری دلیل : رفع یدین کے سنت ہونے کی تیسری دلیل وہ حدیث ہے،جو جزء رفع الیدین