کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 12
اور حافظ ابن حجر ؒ جیسے کبار محدّثین نے اِس روایت کو نقل کرکے کوئی کلام نہیں کیا،تو یہ اِس کے (جان والی ) ہونے کی طرف اشارہ ہے،اور یہ کہنا کہ دوسرا راوی عصمہ بن محمد ہے،جسے یحییٰ القطان نے جھوٹا کہا ہے۔یہ بھی اس طرح صحیح نہیں،جبکہ اس نام کے دراصل دو شخص ہیں،ایک عصمہ بن محمد بن ھشام بن عروہ ہے،وہ متروک الحدیث ہے۔ اور اسے ہی یحییٰ القطان نے [جھوٹا ]کہا ہے اور ابو حاتم نے [ لَیْسَ بِالْقَوِّيِّ] قرار دیا ہے۔ اور اسی نام کے دوسرے راوی عصمہ بن محمد بن فضالہ بن عبید الأنصاري ہیں،انہیں کسی نے بھی [کَذَّاب] و غیرہ نہیں کہا اور یہی عصمہ بن محمد اس اضافے : [فَمَا زالَتْ تِلْکَ صَلوٰتُہٗ حَتّٰی لَقِيَ اللّٰہَ] کے راوی ہیں۔ ان اضافی الفاظ کی تائید اُن تمام احادیث سے بھی ہوتی ہے،جن میں [اِذَا] اور [کَانَ یَرْفَعُ] یا پھر [یَفْعَلُ] وغیرہ الفاظ آئے ہیں،کیونکہ ماضی استمراری کے صیغوں سے بھی وہی بات ثابت ہوتی ہے جو کہ اِن اضافی الفاظ والے جملے میں ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی کرتے جائیں کہ بعض حضرات یہ باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ رکوع والی رفع یدین کے دوام و استمرار کی دلیل صرف یہی حدیث ہے،حالانکہ ایسے نہیں ہے،بلکہ اس بات کی دلیل وہ احادیث بھی ہیں،جن میں ہی تکبیرِ تحریمہ کے ساتھ رفع یدین کا ذکر آیا ہے،جیسے حضرت مالک بن حویرث،حضرت ابو حمید ساعدی اور حضرت وائل بن حُجر رضی اللہ عنہم کی احادیث آنے والی ہیں،اور صاحب ِ ہدایہ ونصب الرایہ نے طریقۂ نماز ِ نبوی میں اِنہی احادیث میں سے حدیث ِ ابن عمر رضی اللہ عنہماکو ذکر کیا ہے،اور اِسی سے تکبیر ِ تحریمہ کے ساتھ رفع یدین کی سنّت صاحب ِ ہدایہ نے ثابت کی ہے۔ [اور اسی میں ہی یہ رکوع والی رفع یدین