کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 101
دیکھا ہے،اور وہ یوں کہ نمازی اپنے ہاتھوں کو اپنے کندھوں تک اس انداز سے اٹھائے کہ ہاتھوں کی انگلیوں کے پَورے کانوں کی چوٹیوں یا بالائی حصوں کے برابر ہوجائیں،اور دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے دونوں کانوں کی نچلی لؤوں تک پہنچ جائیں،اور دونوں ہتھیلیاں کندھوں کے برابرہوں۔  موصوف کی اس جمع و تطبیق اور مطابقت و موافقت کو اگرچہ تمام علماء و فقہاء نے بنظر ِ استحسان دیکھا ہے لیکن یہ ضروری بھی نہیں ہے،اگر کسی کو آسانی سے اس کا تجربہ ہوجائے تو فَبِہا،ورنہ کسی ایک طریقے پر عمل بھی جائز ہے،اور ویسے بھی ابو داؤد کی جن دو روایتوں میں سے ایک میں : ((وَحَاذٰی اِبْہَامَیْہِ اُذُنَیْہِ)) اور دوسری میں : ((یَرْفَعُ اِبْہَامَیْہِ اِلیٰ شَحْمَۃِ اُذُنَیْہِ )) کے الفاظ آئے ہیں،وہ دونوں ہی صحت و ضُعف کے اعتبار سے مختلف فیہ ہیں،اور منقطع السند ہونے کی وجہ سے شیخ البانی کے یہاں ضعیف السندقرار دی گئی ہیں،البتہ حافظ ابن حجر کا انداز بتاتا ہے کہ وہ حسن درجہ کی ہیں۔ مردوزن کے رفع یدین میں عدمِ ِفرق احادیث ِ شریفہ میں وارد ان حدود میں یہ کہیں بھی ذکر نہیں آیا کہ ان میں سے کسی مقام کو مردوں کیلئے خاص کردیا جائے،اور کسی کو عورتوں کے ساتھ مخصوص مان لیں،بلکہ مردوزن اس معاملہ میں بھی برابر ہیں کہ مرد اِن میں سے جس حد تک چاہیں رفع یدین کریں،اور عورتیں بھی جس حد کو چاہیں اختیار کرلیں،کسی کے لئے کسی حد کی