کتاب: دنیوی مصائب و مشکلات حقیقت ، اسباب ، ثمرات - صفحہ 29
الْقَوْمِ الظّٰالِمِیْنَ} (سورۃ التحریم:۱۱) ’’اور اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لئے فرعون کی بیوی کی مثال بیان فرمائی،جبکہ اس نے دعاء کی کہ اے میرے رب! میرے لئے اپنے پاس جنت میں مکان بنااورمجھے فرعون سے اور اس کے عمل سے بچا اور مجھے ظالم لوگوں سے خلاصی دے۔‘‘ جب انہوں نے یہ دعاء کی تو آسمان کے دروازے اُن کے لئے کھل گئے،اور انہوں نے جنّت میں اپنا گھردیکھا۔اوروہ مسکرائیں ۔فرعون نے حکم دیا کہ ایک بہت بڑاپتھر لایا جائے اور آسیہ کو کچل کر ماردیاجائے۔مگر اللہ تعالیٰ نے پتھر گرنے سے پہلے انکی روح قبض کرلی۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے آسیہ کو انکے صبرو احتساب پر دونیکیاں عطاء کیں ؛ جنت میں گھر اور فرعون کے فریبی منصوبوں سے حفاظت۔ اور وہ قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئے ایک مثال بن گئیں ۔(طبرانی) استرجاع ودُعاء اللہ تعالیٰ کی ربّانیت کا اظہار کرنا اور اُس کے حکم کی فرمابرداری کا اپنے الفاظ سے اظہار کرنا،جیسے یہ کہنا: {اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰاجِعُوْنَ} (سورۃالبقرہ:۱۵۶) ’’ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {وَلَنَبْلُوَ نَّکُمْ بِشَیْ ئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ