کتاب: دنیوی مصائب و مشکلات حقیقت ، اسباب ، ثمرات - صفحہ 26
سے محبت کرتا ہے،تو وہ انہیں مشکلات میں مبتلا کردیتا ہے،جو کوئی اللہ کے لکھے پر صبر کرتا ہے تو وہ اللہ کی رضاء حاصل کرتا ہے۔اور جو اللہ کے لکھے پر ناخوش ہوتا ہے تووہ اللہ کے غضب و غصّے کا شکار ہوجاتا ہے۔‘‘ تکالیف میں بندے کا سیدھا سادہ رویہ اور صحیح برتاؤ،دکھ میں بھی خوشی حاصل کرنے کے مواقع پیدا کردیتا ہے اور غموں کو نیکیوں اور اجر میں بدل دیتا ہے! اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رحمتوں کو حاصل کرنے کیلئے صبر ’’صبر‘‘ عربی لفظ ہے اور اسکا لغوی معنیٰ ہے،واویلا کرنے سے پرہیزکرنا،باز رہنا،بچنا اور رکنا(مختارالصّحاح رازی وغیرہ)۔اور اسلامی اصطلاح میں ’’صبر‘‘ کا معنیٰ ہے: اپنے آپ کو نااُمیدی اور مایوسی سے روکنا ،زبانوں کو شکایت کرنے ، ہاتھوں کو گالوں پر مارنے اور کپڑوں کو پھاڑنے سے روکناجبکہ سخت غم اور دباؤ میں ہوں ۔اور جولوگ’صبر‘ کرنے کی خوبی رکھتے ہیں وہ ضرور اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی رحمتوں سے سرفراز ہوں گے ۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے: ((مَا اُعْطِیَ اَحَدٌ عَطَائً خَیْراً وَاَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ))  ’’کسی کو بھی صبر سے بہتر اور زیادہ ساتھ دینے والی کوئی بھی چیز نہیں دی گئی۔‘‘ اللہ بلند وبالا نے صبر کرنے والوں سے اتنے اجر کا وعدہ کیا ہے جس کو نہ تولاجاسکتا ہے اور نہ ہی