کتاب: دنیوی مصائب و مشکلات حقیقت ، اسباب ، ثمرات - صفحہ 25
حصّہ ہیں ۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَنَبْلُوْ کُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَیْرِ فِتْنَۃً} (سورۃ الاَنْبِیائِ:۳۵) ’’ہم بطریق ِامتحان تم میں سے ہر ایک کو برائی وبھلائی میں مبتلا کرتے ہیں ۔‘‘ مطلب یہ ہے کہ ہم تمہاراامتحان لیں گے ،کچھ تکالیف سے اور کچھ آسانیوں سے، تاکہ دیکھیں کہ کون شکرگزار ہے اور کون ناشکرا ہے،کون صبر کرنے والانکلتا ہے اورکون مایوسیوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔حضرت علیبن ابوطلحہ رحمہ اللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت بیان کی ہے کہ اللہ تمہاراامتحان لے گا ،خیر ، شر،مشکلات ،کشائش ،تنگی دستی، صحت ،بیماری،دولت، مفلسی، حلال وحرام ،نیکیوں ، گناہ اورہدایت و گمراہی سے۔ رحمت یا زحمت؟ جہاں مصیبتوں کے وقت صبر اور اطاعت مؤمن کے لئے نعمتیں اور رحمتیں لاتے ہیں ، وہیں نافرمانی اور بے صبری پر بندے کو اللہ کا قہر ،غضب اور سزا اُٹھانا پڑتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے: ((اِنَّ عِظَمَ الْجَزَائِ مَعَ عِظَمِ الْبَلَائِ وَاِنَّ اللّٰہَ اِذَا اَحَبَّ قَوْماًاِبْتَلَاھُمْ فَمَنْ رَضِیَ فَلَہ‘ الرِّضَا وَمَنْ سَخِطَ فَلَہ‘ السَّخَطُ))  ’’اجر کی مقدار مصیبت کی مقدار کے برابر ہوتی ہے۔جب اللہ کچھ لوگوں