کتاب: دنیوی مصائب و مشکلات حقیقت ، اسباب ، ثمرات - صفحہ 17
((وَاِنْ اَصَابَکَ شَیٌٔ فَلَا تَقُلْ لَوْاَنِّیْ فَعَلْتُ کَذَاکَانَ کَذَا وَکَذَا وَلٰکِنْ قُلْ: قَدَرُ اللّٰہِ وَمَاشَآئَ فَعَلَ فَاِنَّ’’لَوْ‘‘ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّیْطَانِ))  ’’اور کوئی چیز(مصیبت کی شکل میں ) تمہارے پاس آجائے،تویہ مت کہوکہ، اگر میں ایسا نہ کرتا تو یہ نہ ہوتا وغیرہ وغیرہ،بلکہ یہ کہو:اللہ نے وہی کیا جو ہونا تھا۔ اور تمہارا ’’اگر‘‘ شیطان کے لئے دروازے کھولتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ مؤمنوں کے دلوں کو صحیح راہ دکھلائے گا اور انہیں سکون عطاء کرے گا بشرطیکہ وہ قیاس آرائیوں سے بچتے رہیں ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ وَمَنْ یُّؤمِنْم بِاللّٰہِ یَھْدِ قَلْبَہ‘ وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ} (سورۃ التغابن:۱۱) ’’کوئی مصیبت اللہ کی اجازت کے بغیر نہیں پہنچ سکتی،جو اللہ پر ایمان لائے ، اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہمانے فرمایا:’’اللہ کا بندے کے دل کو راہ دکھانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اس کے دل کو یقین عطا کردیتا ہے۔‘‘ اس سے بندے کو یہ علم ہوجائے گا کہ جو مصیبت اُس تک پہنچ گئی وہ اس سے ٹل نہیں سکتی تھی اور جو مصیبت بندے سے ٹل گئی وہ اس تک پہنچ نہیں سکتی تھی۔  امام ابن کثیر رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں :’’کسی مصیبت سے دوچار ہونے کے بعد اگر بندہ یہ ایمان رکھے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم اورفرمان سے ہوا ہے،اور وہ صبر کرتے ہوئے اسے