کتاب: دنیوی مصائب و مشکلات حقیقت ، اسباب ، ثمرات - صفحہ 14
اللہ تعالیٰ کے حکم پر ناراضگی ظاہر ہو۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابی حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی زیارت کی جو کہ بیمار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ چند صحابہ رضی اللہ عنہم بھی تھے۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر رودیئے اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روتے دیکھ کر رونے لگے۔اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَ لاَ تَسْمَعُوْنَ؟ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَیْنِ وَلَا بِحُزْنِ الْقَلْبِ،وَلٰکِنْ یُعَذِّبُ بِھَذَا اَوْیَرْحَمُ،وَاَشَارَ اِلٰی لِسَانِہٖ)) ’’سنو!اللہ نہیں سزادیتا آنکھوں سے جاری ہونے والے آنسؤں یا دل پر گزرنے والے دکھوں پر، مگر وہ سزا دیتا ہے اِس کی وجہ سے(اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان کی طرف انگلی سے اشارہ کیا) اور اسی کی وجہ سے رحم کرتا ہے۔‘‘ جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے قریب گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں آنسؤوں سے بھرآئیں ۔ حضرت عبدالرحمن ابن عوف رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:’’کیا آپ بھی اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !(رورہے ہیں )‘‘نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:((یَا ابْنَ عَوْفٍ ! اِنَّھَا رَحْمَۃً))’’اے ابن ِعوف رضی اللہ عنہ ! یہ رحمت ہے۔‘‘اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: ((اِنَّ الْعَیْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ یَحْزَنُ وَلَا نَقُوْلُ اِلَّا مَا یُرْضِیْ رَبَّنَا،وَاِنَّا بِفِرَاقِکَ یَا اِبْرَاہِیْمُ لَمَحْزُوْنُوْنَ))