کتاب: دین کے تین اہم اصول مع مختصر مسائل نماز - صفحہ 8
بسم ا للّٰه الرحمن الرحيم پیش لفظ اِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَحْمَدُہ‘ وَنَسْتَعِیْنُہ‘ وَنَسْتَغْفِرُہ‘ ،وَ نَعُوْذُ بِا للّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا وَ مِنْ سَیِّئَاتِ أَعْمَا لِنَا، مَنْ یَّھْدِہٖ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہ‘،وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَا ھَادِیَ لَہ‘، وَاَشْھَدُ اَنْ لَّا إِلٰہَ اِلاَّ اللّٰهُ وَحْدَہ‘ لَاشَرِیْکَ لَہ‘، وَ اَشْھَدُ أَ نَّ مُحَمَّداً عَبْدُہ‘ وَرَسُوْلُہ‘۔اَمَّا بَعْدُ:  حدیث ِ شریف میں مذکور ہے کہ میت کو قبر میں دفن کردینے کے بعد اس کے پاس دو فرشتے ’’منکر اور نکیر‘‘ آتے ہیں اور اس سے جو تین سوال پوچھتے ہیں ‘ جن کے صحیح جوابات دینے والا نجات کا مستحق ہوتا ہے،وہ یہ ہیں۔ 1 مَنْ رَبُّکَ؟ تیرا رب کون ہے؟ 2 مَنْ نَّبِیُّکَ؟ تیرا نبی کون ہے؟ 3 مَادِیْنُکَ؟ تیرا دین کیا ہے؟ قارئین ِ کرام ! یہ کس قدر عجیب امتحان ہے کہ امتحان گاہ میں داخل ہونے سے ہزارہا برس پہلے ہی سوالات بتادیئے گئے ہیں تا کہ تیاری میں آسانی رہے۔ مگر صاحبو! زیادہ خوش فہمی کا شکار بھی نہ ہوجانا۔درحقیقت یہ امتحان ہمارے سکولوں کالجوں کے امتحانات سے یکسر مختلف ہے۔ان سوالات کے جوابات صرف زبانی رٹنے سے یاد نہیں ہوتے بلکہ عملی زندگی میں اپنانے سے ازبر ہوتے ہیں ‘ورنہ جس نے ان سوالات کے مدعا پر کبھی غور نہیں کیا‘ان کے مطلوب پر عمل نہیں کیا‘اللہ تعالیٰ کے احکامات‘نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات