کتاب: دین کے تین اہم اصول مع مختصر مسائل نماز - صفحہ 56
قَالَ :مَنْ کَانَ عَلیٰ مِثْلِ مَااَنَا عَلَیْہِ وَ اَصْحَابِیْ))  ’’یہود اکہتّر فرقوں میں بٹ گئے اور عیسائیوں کے بہتّر فرقے بن گئے اور یہ امتِ محمدیہ تہتّر فرقوں میں تقسیم ہو جائیگی ۔ تمام فرقے جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے۔‘‘ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہتے ہیں ) ہم نے پوچھا کہ وہ کونسا فرقہ ہوگا ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’جن کا عمل اس طرح کا ہوگا جس طرح کا ( آج) میرا اور میرے صحابہ( رضی اللہ عنہم )کا ہے ۔‘‘ چو تھا رکن رکوع نماز کا چوتھا رکن ’’رکوع ‘‘ ہے ۔ پانچواں رکن قومہ نماز کا پانچواں رکن ’’قومہ ‘‘ (رکوع سے سراٹھا کر کھڑے ہونا )ہے ۔ چھٹا رکن سجدہ نماز کاچھٹا رکن ’’سات اعضاپر سجدہ کرنا ‘‘ ہے ۔ ساتواں رکن اعتدال اعضاء جسم نماز کا ساتواں رکن اعتدالِ اعضاء جسم ہے۔ (٭ اعتدال سے مراد رکوع وغیرہ سے اٹھنے کے بعد تمام اعضائے جسم کو اعتدال پر لانا ہے کہ ہر عضو اپنی اپنی جگہ معتدل ہوجائے ۔ قارئین ِکرام! اس سے آپ بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ وہ لوگ جو رکوع سے اٹھتے وقت سر کو صرف برائے نام اوپر کو جھٹکا دیتے اور پھر سجدے میں چلے جاتے ہیں وہ نماز کے اس مستقل رکن کو پورا نہیں کر پاتے اور خواہ مخواہ جلد بازی میں اپنی نمازکو ناقص بلکہ باطل کرلیتے ہیں اور