کتاب: دین کے تین اہم اصول مع مختصر مسائل نماز - صفحہ 18
ڈھانک دیتا ہے اور پھر دن رات کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے ۔ جس نے سورج ’چاند اور ستارے پیدا کیے ،سب اس کے فرمان کے تابع ہیں۔ خبردار رہو! اسی کی سب مخلوق ہے اور اسی کاحکم جاری ہے ۔ بڑا بابرکت ہے اللہ سارے جہانوں کا مالک و پرودگار۔‘‘ رب ِکائنات ہی لائقِ عبادت اور معبودِ بر حق ہے ۔ اس کی دلیل یہ ار شاد الٰہی ہے : {یٰٓاَیُّھَاالنَّاسُ اعْبُدُوْارَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَo الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًاوَّالسَّمَآئَ بِنَائً وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَاَخْرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًالَّکُمْ ‘فَلَا تَجْعَلُوْالِلّٰہِ اَنْدَادًاوَّاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo} (البقرۃ :۲۱۔۲۲) ’’لو گو !بند گی اختیار کرو اپنے اُس رب کی جو تمہارا اور تم سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں اُن سب کا خالق ہے ۔ عجب نہیں کہ تم (دوزخ سے ) بچ جاؤ ۔ وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کا فرش بچھایا، آسمان کی چھت بنائی، اوپر سے پانی برسایا اور اُس کے ذریعے سے ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمہارے لیے رزق بہم پہنچا یا پس جب تم یہ جانتے ہو تودوسروں کو اللہ کا مدِّ مقابل نہ ٹھہراؤ ۔‘‘ امام ابن کثیرؒ نے اس آیت کی تفسیر بیان کر تے ہوئے لکھاہے : [اَلْخَالِقُ لِھٰذِ ہٖ الْاَ شْیَائِ ھُوَ الْمُسْتَحَقُّ لِلْعِبَادَۃِ]  ’’ان تمام مذکورہ اشیاء کا خالق (پید ا کر نے والا ) ہی ہر قسم کی عبادت کا صحیح حقدار ہے ۔‘‘