کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 90
وَلَقَدْ أَصَابَ مَنْ کَانَ مِنْہُمْ کَافِرًا اَلذُّلَّ وَالصَّغَارَ وَالْجِزْیَۃَ۔‘‘ [’’بے شک میں نے (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی) اس (پیش گوئی) کو اپنے کنبہ میں (پورے ہوتے) دیکھا۔ بلاشبہ ان میں سے دائرہ اسلام میں داخل ہونے والے نے خیر، احترام اور عزت کو پایا اور یقینا ان میں سے کافر کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا اور جزیہ ادا کرنا پڑا۔‘‘] ۲: حضرت ائمہ احمد، ابن حبان، ابن مندہ، حاکم، بیہقی اور طبرانی نے حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’لَا یَبْقَی عَلٰی ظَہْرِ الْأَرْضِ بَیْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَہُ اللّٰہُ کَلِمَۃَ الْإِسْلَامِ ، بِعِزِّ عَزِیْزٍ أَوْ ذُلِّ ذَلِیْلٍ، إِمَّا یُعِزّھُمُ اللّٰہُ ، فَیَجْعَلُہُمْ مِنْ أَھْلِہَا أَوْ یُذِلُّہُمْ فَیَدِیْنُوْنَھَا۔‘‘