کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 89
بَیْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَہُ اللّٰہُ ھٰذَا الدِّیْنَ بِعِزِّ عَزِیْزٍ أَوْ بِذُلِّ ذَلِیْلٍ، عِزًّا یُعِزُّ اللّٰہُ بِہِ الْإِسْلَامَ وَذُلًّا یُذِلُّ اللّٰہُ بِہِ الْکُفْرَ۔‘‘ [’’بلاشبہ یہ بات [یعنی دین اسلام] وہاں تک ضرور پہنچے گا، جہاں تک رات اور دن پہنچے ہیں، اللہ تعالیٰ کسی بھی مٹی اور بالوں کے بنے ہوئے گھر میں اس دین کو داخل کئے بغیر نہ چھوڑیں گے، عزت والے کو عزت دے کر اور قابل ذلت کو ذلیل کرکے۔ وہ ایسی عزت ہوگی، کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ اسلام کو بلند و بالا فرمائیں گے اور وہ ایسی ذلت ہوگی، کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ کفر کو ذلیل کریں گے۔‘‘] اور حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’قَدْ عَرَفْتُ ذٰلِکَ فِيْ أَھْلَ بَیْتِيْ: لَقَدْ أَصَابَ مَنْ أَسْلَمَ مِنْہُمُ الْخَیْرَ، وَالشَّرَفَ، وَالْعِزَّ،