کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 75
’’وَنَظِیْرُ ھٰذِہِ الآیَۃِ قَوْلُہُ تَعَالٰی: (وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلَی النَّاسِ) أَيْ بِالْأَمْرِ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّھِیْ عَنِ الْمُنْکَرِ۔‘‘ [’’اس آیت کی مانند ارشاد (باری) تعالیٰ ہے(ترجمہ: اور اسی طرح تمہیں بہترین امت بنایا، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بن جاؤ) یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ساتھ۔‘‘] شیخ ابن عاشور اس آیت شریفہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں: اور (الناس) [لوگ] کا لفظ عام ہے اور اس سے مراد گزشتہ اور موجودہ سب امتوں کے لوگ ہیں اور آیت کریمہ میں مذکورہ شہادت دنیا اور آخرت دونوں میں ہے۔ پھر تحریر کرتے ہیں: ’’وَمِنْ مُکَمِّلَاتِ مَعْنَی الشَہَادَۃِ عَلَی النَّاسِ فِيْ الدُّنْیَا وُجُوْبُ دَعْوَتِنَا الْأُمَمَ لِلْإِسْلَامِ، لِیَقُوْمَ ذٰلِکَ مَقَامَ دَعْوَۃِ الرَّسُوْلِ صلی اللّٰه علیہ وسلم إِیَّاھُمْ حَتَّی تَتِمَّ الشَّہَادَۃُ لِلْمُوْمِنِیْنَ مِنْہُمْ عَلَی الْمُعْرِضِیْنَ۔‘‘ [’’اور دنیا میں لوگوں پر گواہی دینے (کی ذمہ داری) کو پورا کرنے کے تقاضوں میں سے یہ ہے ، کہ ہم دوسری امتوں کو لازماً اسلام کی دعوت دیں، تاکہ یہ (دعوت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انہیں دعوت دینے کے قائم مقام ہوجائے اور اس (امت) کے مومنوں کی اعراض کرنے والوں کے