کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 70
[’’پس یقینا میں انبیاء میں سے آخری [نبی] ہوں اور بے شک وہ (یعنی مسجد نبوی) آخری مسجد ہے۔‘‘] و: امام احمد نے حضرت سعد (بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں [یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ ] کو بعض غزوات میں اپنے پیچھے (مدینہ طیبہ میں ) چھوڑا، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ پیچھے چھوڑ رہے ہیں؟‘‘ (تو) میں نے (اس موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’یَا عَلِيُّ! أَمَا تَرْضَی أَنْ تَکُوْنَ مِنِّي بِمَنْزِلَۃِ ھَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی؟ إِلَّا أَنَّہُ لَا نُبُوَّۃَ بَعْدِيْ۔‘‘ [اے علی! رضی اللہ عنہ کیا تم اس پر راضی نہیں، کہ میرے پیچھے تمہاری حیثیت وہی ہو، جو موسیٰ کے پیچھے ہارون علیہما السلام کی تھی؟  ہاں یقینا میرے بعد نبوت نہیں۔‘‘]