کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 44
رازی لکھتے ہیں: ’’پہلی بات یہ ہے، کہ بلاشبہ [اَلْعَالَم] [سے مراد] اللہ تعالیٰ کے سوا سب کچھ ہے۔ اس میں جنوں اور انسانوں میں سے سب مکلَّفین شامل ہیں اور اس سے ان لوگوں کی بات کا بطلان ہوجاتا ہے، جنہوں نے کہا ہے، کہ : ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (صرف)کچھ لوگوں کی طرف بطور رسول مبعوث کئے گئے تھے۔‘‘[1] حافظ ابن کثیر تحریر کرتے ہیں: ’’ارشاد باری تعالیٰ: {لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا} [تاکہ وہ سب جہان والوں کے لیے ڈرانے والے ہوجائیں] یعنی بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اس مفصل عظیم، خوب کھول کر بیان کرنے والی محکم کتاب، کہ جس کے آگے پیچھے سے باطل داخل نہیں ہوسکتا اور جس کو انہوں نے فرقان عظیم[2] بنایا، کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس لیے مخصوص فرمایا، تاکہ آپ کو ایسی رسالت کے ساتھ مخصوص فرمائیں، جو کہ آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر بسنے والے تمام لوگوں کے لیے ہو۔‘‘[3] ہ: حدیث جابر رضی اللہ عنہ : امام بخاری نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’أَعْطِیْتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَہُنَّ أَحَدٌ قَبْلِيْ: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِیْرَۃَ شَہْرٍ؛ وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطُہُوْرًا، فَأَیُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِيْ أَدْرَکَتْہُ الصَّلَاۃُ فَلْیُصَلِّ؛ وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِيْ، وَأُعْطِیْتُ الشَّفَاعَۃَ ؛ وَکَانَ النَّبِيُّ
[1] التفسیر الکبیر ۲۴/۴۵۔ [2] یعنی حق و باطل کے درمیان تمیز کرنے والی عظیم کتاب۔ [3] تفسیر ابن کثیر ۳/۳۳۹؛ نیز ملاحظہ ہو: تفسیر القرطبی ۱۳/۱۷؛ وتفسیر أبي السعود ۶/۲۰۰؛ وتفسیر التحریر و التنویر ۱۸/۳۷۱؛ وفتح القدیر ۴/۸۸۔