کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 43
تنبیہ: عام دستور کے مطابق [حال] کو [ذوالحال] کے بعد ذکر کیا جاتا ہے، لیکن اس آیت کریمہ میں حال [کَآفَّۃً] کو ذوالحال [لِلنَّاسِ] سے پہلے ذکر کیا گیا ہے۔ اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے علامہ ابن عطیہ اندلسی تحریر کرتے ہیں: ’’[کآفۃ] حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے اور اس کو اہتمام کی خاطر پہلے ذکر کیا گیا ہے۔ [یعنی اس حقیقت کو نمایاں کرنے کے اہتمام کے پیش نظر، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سب لوگوں کے لیے ہے]‘‘  علامہ رحمہ اللہ مزید لکھتے ہیں: ’’یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان خصائص میں سے ایک ہے، جن کا ذکر حدیث شریف [أُعْطِیْتُ……الحدیث]  [مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں، جو کسی اور نبی کو نہیں دی گئیں] میں کیا گیا ہے۔‘‘  د: ارشاد باری تعالیٰ: {تَبَارَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَا} [بہت برکت والے ہیں وہ، جنہوں نے اپنے بندے پر فیصلہ کرنے والی کتاب نازل فرمائی، تاکہ وہ سارے جہانوں کے لیے ڈرانے والے بنیں]۔ جن باتوں پر یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے، ان کا ذکر کرتے ہوئے علامہ