کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 225
{لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰہُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِکَ} [تاکہ آپ(اس) قوم کو ڈرائیں، جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا]۔ ایک تیسری آیت مبارکہ میں ہے: {وَ ہٰذَا کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ مُبٰرَکٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰی وَ مَنْ حَوْلَہَا} [اور یہ ایک کتاب ہے، ہم نے اس کو نازل کیا ہے، بڑی برکت والی ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے اور تاکہ آپ بستیوں کے مرکز اور اس کے اردگرد کے لوگوں کو ڈرائیں] ان آیات سے استدلال کرتے ہوئے شبہ پیش کرنے والے لوگ کہتے ہیں، کہ اسلام عالم گیرمذہب نہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت صرف ان کی اپنی قوم، اپنی بستی اور اس کے گردونواح میں بسنے والے لوگوں کے لیے ہے۔ حقیقت شبہ: اس شبہ کی حقیقت کو سمجھنے کی خاطر قارئین کرام کی توجہ درج ذیل چار باتوں کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں: ۱: کیا مذکورہ بالا تین آیات شریفہ میں یہ بات ہے، کہ ان میں ذکر کردہ لوگوں کے سوا کسی اور کو آپ نے نہیں ڈرانا؟ کیا پہلی آیت شریفہ، کہ [جس میں سب سے قریبی رشتہ داروں کو ڈرانے کا حکم