کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 215
الترمذی] کے مقدمہ میں ایک فصل کا درج ذیل عنوان تحریر کیا ہے: ’’الفصل السادس في أنّ حَمَلَۃَ الْعِلْمِ فِيْ الْإِسْلَامِ أَکْثَرُھُمْ الْعَجْمُ۔‘‘ [چھٹی فصل کہ بلاشبہ اسلام میں اکثر اہل علم عجمی تھے] پھر اسی فصل کے آغاز میں لکھتے ہیں: ’’یہ حیران کن حقیقت ہے، کہ شرعی اور عقلی علوم میں ملت اسلامیہ کے علماء کی اکثریت عجمی تھی، شاذو نادر ہی کوئی دوسرا ہوگا۔‘‘ انہی عجمی حضرات نے اسلام اور علوم اسلامیہ کی انتہائی قابل قدر خدمت کرنے کی بدولت مذہبی سیادت و قیادت پائی۔ امام ابن الصلاح کا نقل کردہ درج ذیل واقعہ اس حقیقت کو خوب واضح کرتا ہے: (امام) زہری نے بیان کیا: ’’میں عبد الملک بن مروان کے ہاں پہنچا، تو اس نے دریافت کیا: ’’اے زہری! کہاں سے آرہے ہو‘‘؟ میں نے جواب دیا: ’’مکہ (مکرمہ) سے۔‘‘ اس نے کہا: ’’کس کو اس (یعنی مکہ) کے رہنے والوں کی سیادت کرتے چھوڑ کر آئے ہو؟‘‘ میں نے کہا: ’’عطاء بن ابی رباح۔‘‘ اس نے پوچھا: ’’تو وہ عرب سے ہے یا عجم سے؟‘‘ میں نے جواب دیا: ’’عجم سے ہے۔‘‘