کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 209
بزرگوں کے احترام کے نام پر جوانوں کو بھیڑ بکریاں نہیں بنایا گیا اور جوانوں کی آزادی کے نشہ میں معاشرے کی پاکیزگی اور ستھرائی کو گندگی سے بدلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ مساواتِ نسواں کے دل فریب نعروں کے بہانے خاندانی نظام کو چکنا چور نہیں کیا گیا اور خاندانی نظام کی حفاظت کے نام پر عورتوں کو لونڈیاں اور باندیاں نہیں بنایا گیا۔ غرضیکہ اسلام ایک کامل اور متوازن دستورِ حیات ہے۔ اگر عرب دنیا کی یہ ضرورت تھی اور ہے، تو غیر عرب دنیا بھی اس کی محتاج تھی، ہے اور تاقیامت رہے گی۔ II: دعوتِ اسلام جزیرۃ العرب سے نکل کر جہاں جہاں پہنچی، وہاں کے لوگوں نے کمال شوق اور عجیب گرم جوشی سے اس کا استقبال کیا۔ نہ صرف اس دین کو قبول کیا، بلکہ اس دین کی زبان سے اپنی صدیوں پرانی زبانوں سے زیادہ پیار کیا، اپنی صدیوں بلکہ ہزاروں سالہ پرانی تہذیبوں کو خیر باد کہہ دیا۔ اس بارے میں اپنی طرف سے کچھ تحریر کرنے کی بجائے دو مستشرقین کی کتابوں سے اقتباسات پیش کئے جارہے ہیں۔ نامور فرانسیسی مستشرق ڈاکٹر غوستاف لوبون لکھتے ہیں: ’’یونانی، ایرانی اور رومی مشرق میں جس کام کو نہ کرسکے، عربوں نے وہی کام جبر و اکراہ کے بغیر جلد ہی کر دکھایا۔ مثال کے طور پر مصر کو دیکھئے، جو کہ اجنبی اثرات کے قبول کرنے کے حوالے سے دنیا کا سب سے زیادہ اکھڑ ملک نظر آتا تھا، وہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے فتح مصر کے بعد سو سال سے کم عرصہ میں اپنی سات ہزار سالہ تاریخ والی تہذیب کو بھول گیا۔ اس نے ایک نئے دین، نئی زبان اور نئی ثقافت کو اس قدر مضبوطی سے تھاما، کہ