کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 196
تعلیم اس کو شفقت سے دی جائے] ج: اپنے ہاں پیدا ہونے والے بچے کی نفی کرنے والے بدو کو نصیحت: امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ ’’بے شک ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: ’’إِنَّ أمرأَتِيْ وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ ، وَ إِنِّيْ أَنْکَرْتُہُ۔‘‘ [’’بے شک میری بیوی نے ایک سیاہ رنگ کے لڑکے کو جنم دیا تھا اور یقینا میں نے اس کا انکار کردیا ہے‘‘] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ’’ھَلْ لَکَ مِنْ إِبِلٍ؟‘‘ ’’کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟‘‘ اس نے عرض کیا: ’’نَعَمْ‘‘ ’’جی ہاں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ’’فَمَا أَلْوَانُھَا؟‘‘ ’’ان کے رنگ کیا ہیں؟‘‘ اس نے عرض کیا: ’’حُمُرٌ۔‘‘ ’’سرخ۔‘‘