کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 185
عَشْرَ آیَاتٍ فَیَکْتُبَ اللّٰہُ لَہُ بِکُلِّ آیَۃٍ حَسَنَۃً۔‘‘ [’’اے تاجرو! کیا تم میں سے کوئی ایک اس بات کی طاقت نہیں رکھتا، کہ جب وہ بازار سے لوٹے، تو دس آیات پڑھ لے اور اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر آیت کے بدلہ میں نیکی لکھ دیں۔‘‘] اس حدیث شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تاجروں کو بازاروں سے واپس آکر دس آیات پڑھنے کی ترغیب دی ہے۔ شاید اس ترغیب کی حکمت یہ ہو، کہ بازار میں ہونے والے گناہوں کی وجہ سے طبیعتوں میں پیدا ہونے والا تکدر تلاوت قرآن پاک سے دور ہوجائے۔ واللہ تعالیٰ أعلم۔ (۱۶) فقراء کو دعوتِ دین ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غریب لوگوں کو بھی دعوت دین دینے کا اہتمام فرماتے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ بیٹھتے اور انہیں دین کی باتوں کی تعلیم دیتے۔ ذیل میں توفیق الٰہی سے اس بارے میں تین مثالیں پیش کی جارہی ہیں: ا: قرآن کریم پڑھنے کی ترغیب: امام مسلم نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم صفہ میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: