کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 176
ج: بیمار عورت کو بخار کو برا بھلا کہنے سے روکنا: امام مسلم نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ ’’بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام السائب یا ام المسیب کے ہاں تشریف لائے، اور فرمایا: ’’مَالَکِ یَا أُمَّ السَّائِبِ أَوْ أُمَّ الْمُسَیَّبِ! تُزَفْزِفِیْنَ؟‘‘ ’’اے ام السائب یا ام المسیب! تمہیں کیا ہوا ہے؟ کپکپارہی ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’اَلْحُمَّی، لَابَارَکَ اللّٰہُ فِیْہَا۔‘‘ ’’بخار (کی وجہ سے) اللہ تعالیٰ اس میں برکت نہ فرمائیں۔‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لَا تَسُبِّي الْحُمَّي، فَإِنَّہَا تَذْھَبُ خَطَایَا بَنِيْ آدَمَ کَمَا یَذْھَبُ الْکِیْرُ خَبَثَ الْحَدِیْدِ۔‘‘ ’’بخار کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ یہ تو انسانوں کی خطاؤں کو اس طرح ختم کردیتا ہے، جس طرح کہ بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔‘‘ حدیث سے معلوم ہونے والی تین باتیں: ۱: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مہمان ہونے کے باوجود خاتون کوغلط بات سے منع فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان ہونا غلط بات پر ٹوکنے کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکا۔