کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 157
عَلٰی صِرَاطِ نَبِیِّکَ الْمُسْتَقِیْمِ۔ آمین یا حي یاقیوم۔ حدیث میں ایک اور فائدہ: اس حدیث شریف سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے، کہ دعوتِ دین کے لیے کوئی مخصوص وقت نہیں،بلکہ جب بھی ضرورت ہو اور موقع مناسب ہو، تو دعوتِ دین دی جائے گی۔ ز:نواسے کو دعائے قنوت سکھلانا: حضرت ائمہ احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، دارمی اور ابن حبان نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: ’’عَلَّمَنِيْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم کَلِمَاتٍ أَقُوْلُہُنَّ فِي الْوِتْرِ: اَللّٰھُمَّ اھْدِنِيْ فِیْمَنْ ھَدَیْتَ، وَعَافِنِیْ فِیْمَنْ عَافَیْتَ، وَتَوَلَّنِيْ فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ، وَبَارِکْ لِيْ فِیْمَا أَعْطَیْتَ، وَقِنِيْ شَرَّ مَا قَضَیْتَ، إِنَّکَ تَقْضِيْ وَلاَ یُقْضَي عَلَیْکَ۔ وَإِنَّہٗ لَا یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ، وَلَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ، تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔‘‘