کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 145
صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ایک دوسری روایت میں ہے: ’’یَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ! لَا أُغْنِيْ عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا۔ یَا صَفِیَّۃُ عَمَّۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم ! لَا أُغْنِيْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا۔ یَا فَاطِمَۃُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ صلی اللّٰه علیہ وسلم ! سَلِیْنِي مَا شِئْتِ مِنْ مَالِيْ، لَا أُغْنِيْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا۔‘‘ ’’اے عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ ! میں اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں آپ کے کچھ بھی کام نہ آسکوں گا۔ اے صفیہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی! میں اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں آپ کے کچھ بھی کام نہ آسکوں گا۔ اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے مال میں سے جو چاہو، مجھ سے مانگ لو (لیکن) اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں تمہارے کسی بھی کام نہ آسکوں گا۔‘‘ امام بخاری نے اس پر درج ذیل عنوان تحریر کیا ہے: [بَابُ (وَاَنذِرْ عَشِیرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ)]  [(اپنے قریبی رشتے داروں کو ڈرائیے) کے متعلق باب] امام نووی نے صحیح مسلم کی روایت پر درج ذیل عنوان لکھا ہے: [بَابُ فی قولہ تعالیٰ: {وانذر عشیرتک الاقربین}] [اللہ تعالیٰ کے ارشاد (ترجمہ: اور اپنے قریبی رشتے داروں کو ڈرائیے)