کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 143
ذکر کیا ہے اور ان میں سے بیس سے زیادہ ایسے ہیں، جو بادشاہوں اور دوسرے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے ارسال کئے گئے تھے۔ (۹) اقرباء کو دعوتِ دین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوتِ دین دیتے ہوئے اپنے قرابت داروںکو نظر انداز نہ کیا، بلکہ ان کی طرف خصوصی توجہ فرمائی۔ اس بارے میں سات مثالیں ذیل میں ملاحظہ فرمائیے: ا: قریش کو دعوتِ دین: امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: ’’لَمَّا نَزَلَتْ ھٰذِہِ الْآیَۃُ {وَاَنذِرْ عَشِیرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ} دَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم قُرَیْشًا فَاجْتَمَعُوْا، فَعَمّ وَخَصَّ۔‘‘ [جب یہ آیت نازل ہوئی (ترجمہ: اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے)، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو بلایا اور وہ جمع ہوگئے، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (دعوت) عامہ اور (دعوتِ) خاصہ  دی۔