کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 141
حدیث سے معلوم ہونے والی تین باتیں: ۱: دعوتِ دین بذریعہ تحریر۔ امام بخاری نے اس حدیث پر درج ذیل عنوان تحریر کیا ہے: [بَابُ کِتَابِ النَّبِيِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم إِلٰی کِسْرَی وَقَیْصَرَ]  [نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسری و قیصر کے نام چٹھی کے متعلق باب] ۲: مخاطب کا دعوتِ دین کے جواب میں برا طرز عمل۔ ۳: بعض اوقات داعی کا لوگوں کے برے سلوک پر بددعا کرنا۔ (۸) ہر جابر کو دعوتِ اسلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مذکورہ بالا لوگوں ہی کے نام دعوتِ دین کے لیے مکاتیب ارسال نہ فرمائے، بلکہ ہر جابر کو اسلام کی دعوت دینے کی غرض سے لکھا۔ امام مسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت نقل کی ہے: ’’أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم کَتَبَ إِلٰی کِسْرَی، وَإِلَی قَیْصَرَ، وَإِلَی النَّجَاشِي، وَإِلَی کُلِّ جَبَّارٍ یَدْعُوْھُمْ إِلَی الْإِسْلَامِ، وَلَیْسَ بِالنَّجَاشِيْ الَّذِيْ صَلَّی عَلَیْہِ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم ۔‘‘ [بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت دینے کی خاطر کسری، قیصر، نجاشی اور ہر جابر کی طرف لکھا اور یہ وہ نجاشی نہ تھا، جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھی تھی‘‘]۔