کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 137
اہل اسلام کو اذیت دینے، ان پر طعن زنی کرنے اور ان کی خامیوں کی ٹوہ میں رہنے سے منع فرمایا۔ علامہ طیبی حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں: ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ مبارکہ [لَا تُؤْذُوْا الْمُسْلِمِیْنَ]  اس بات پر صراحت کے ساتھ دلالت کرتے ہیں، کہ اسلام (دل کی) تصدیق اور اعمال صالحہ دونوں کے مجموعہ کا نام ہے، تو گویا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے وہ لوگو جن کے پاس (دلی) تصدیق کے بغیر (صرف زبان سے) اسلام (کا دعویٰ) ہے! ان لوگوں کو اذیت نہ دو، جنہوں نے ان دونوں چیزوں کو اپنے پاس جمع کیا ہے۔‘‘ ایک سوال اور اس کا جواب: اس مقام پر شاید کوئی یہ سوال کرے، کہ منافق کو یہ کس طرح کہا گیا ہے، کہ [وہ اپنے مسلمان بھائی کے عیب ڈھونڈنے کے درپے نہ رہے] حالانکہ منافق تو مسلمان کا بھائی ہوتا ہی نہیں؟ علامہ طیبی نے اس سوال کو خود ہی ذکر کرکے اس کا جواب دیا ہے۔ چنانچہ وہ تحریر کرتے ہیں: ’’اگر تم کہو: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان [اپنے مسلمان بھائی کا عیب…] میں [اپنے بھائی] کے الفاظ کہنے میں کیا حکمت ہے، کیونکہ گفتگو تو منافقوں کے ساتھ ہورہی ہے اور وہ مسلمانوں کے بھائی نہیں ہیں؟‘‘ میں کہتا ہوں: یہ الفاظ [جو کوئی اپنے مسلمان بھائی کے عیوب کی ٹوہ میں رہتا ہے] سابقہ گفتگو کا تتمہ اور ان میں زور پیدا کرنے کے لیے ہے۔ گویا کہ یوں کہا گیا ہے: