کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 106
ان بشارتوں میں آنے والے پیغمبر کے دیگر اوصاف: مذکورہ بالا آیات میں آنے والے پیغمبر کے ایسے اوصاف بیان کئے گئے ہیں، جو اس بات کی تائید کرتے ہیں، کہ وہ پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ ۱: تعلیمات مسیح علیہ السلام کی عیسائیوں کو یاد دہانی: ان آیات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو خبر دی ہے، کہ آنے والے نبی انہیں وہ سب چیزیں سکھلائیں اور یاد دلائیں گے، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کام خوب اچھی طرح سرانجام دیا۔ قرآن کریم کی درج ذیل آیت کریمہ پر غور فرمائیے: {لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اعْبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیْ وَ رَبَّکُمْ اِنَّہٗ مَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَ مَاْوٰہُ النَّارُ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ} [بلاشبہ وہ لوگ کافر ہوگئے، جنہوں نے کہا، کہ اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم ہی تو ہیں، حالانکہ مسیح علیہ السلام نے کہا: ’’اے بنی اسرائیل! اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، جو میرا اور تمہارا رب ہے۔ بے شک حقیقت یہ ہے، کہ جو بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک بنائے، سو یقینا اس پر اللہ تعالیٰ نے جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا (دوزخ کی) آگ ہے اور ظالموں کے لیے کوئی مدد کرنے والا نہیں۔‘‘]