کتاب: دعوت دین کِسے دیں؟ - صفحہ 104
موجود ہیں۔ چند ایک ذیل میں ملاحظہ فرمائیے: ۱: انجیل یوحنا میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے تشریف لانے والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بایں الفاظ کیا ہے: ’’اور میں اپنے باپ سے درخواست کروں گا اور وہ تمہیں دوسرا [فارقلیط] بخشے گا، کہ ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے۔‘‘ ۲: آگے بڑھ کر ہے: ’’لیکن و ہ [فارقلیط] جو روح القدس ہے، جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا، وہی تمہیں سب چیزیں سکھائے گا اور سب باتیں، جو کچھ کہ میں نے کہی ہیں، تمہیں یاد دلائے گا۔‘‘ ۳: اسی انجیل میں ہے: ’’پر جب وہ [فارقلیط] جسے میں تمہارے لیے باپ کی طرف سے بھیجوں گا، یعنی سچائی کی روح، جو باپ سے نکلتی ہے، تو وہ میرے لیے گواہی دے گا۔‘‘ ۴: اسی انجیل میں یہ بھی ہے: ’’لیکن میں تمہیں سچ کہتا ہوں، کہ تمہارے لیے میرا جانا ہی فائدہ ہے، کیونکہ اگر میں نہ جاؤں، تو [فارقلیط] تمہارے پاس نہ آئے گا، پر اگر میں جاؤں، تو میں اسے تمہارے پاس بھیج دوں گا اور آن کر دنیا کو گناہ سے اور راستی سے اور عدالت سے قصور وار ٹھہرائے گا۔ گناہ سے اس لئے، کہ اس جہاں کے سردار پر حکم کیا گیا ہے، کہ میری اور بہت سی باتیں