کتاب: آداب دعا - صفحہ 91
حاکم ،معانی الآثار طحاوی، حلیۃ الاولیاء ابو نعیم ، الفردوس دیلمی اور تاریخِ دمشق ابن عساکر میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ((ثَلَاثَۃٌ یَدْعُوْنَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَلَا یُسْتَجَابُ لَہُمْ :)) ’’تین آدمی اللہ عزّ و جلّ سے دعائیں مانگتے ہیں لیکن انکی دعائیں قبول نہیں کی جاتیں ۔‘‘ (اور ان تین میں سے دوسرا شخص ہے) : ((…وَ رَجُلٌ کَانَ لَہٗ عَلیٰ رَجُلٍ مَالٌ فَلَمْ یُشْہِدْ عَلَیْہِ…))۔  ۔‘‘۔۔۔۔اور وہ آدمی جس کا کسی کے ذمے کچھ قرض تھا مگر اس نے اس پر کسی کو گواہ نہیں بنایا۔۔۔۔۔‘‘ (۷) …مال و دولت نا اہل لوگوں کے سپرد کرنے والا : جن لوگوں کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں ان میں سے ساتواں شخص وہ ہے جو اپنا مال و دولت نااہل لوگوں کے سپرد کردے ۔ اوراس سے مراد ایک تو وہ شخص ہے جس کی کفالت میں کوئی یتیم بچہ ہو جو کہ صاحبِ جائیداد ہو اور وہ اس بچے کی جائیداد کو اس کے بالغ اور سمجھدار ہونے سے پہلے ہی اس کے سپرد کردے ،کیونکہ ایسی صورت میں خدشہ ہے کہ بچہ ناسمجھی کی وجہ سے اپنا مال ضائع کردے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ سورۃ النسآء آیت:۵ میں اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے : { وَ لَا تُؤْتُوْا السُّفَہَائَ أَمْوَالَکُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ قِیَاماً } ’’بے عقل لوگوں کو اپنا مال نہ دو جس کو اللہ تعالیٰ نے تمہاری گزران کے قائم رکھنے کا ذریعہ بنایا ہے۔‘‘