کتاب: آداب دعا - صفحہ 74
(۱۴)… جمعہ کی رات : جن مواقع پر دعائیں جلد قبول ہوتی ہیں ان میں سے ہی جمعرات و جمعہ کی درمیانی رات بھی ہے، چنانچہ سنن ترمذی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : (( اِنَّ فِی لَیْلَۃِ الْجُمُعَۃِ سَاعَۃٌ، اَلدُّعآئُ فِیْہَا مُسْتَجَابٌ))۔  ’’جمعہ کی رات میں ایک گھڑی ایسی ہے جس میں دعاء قبول کی جاتی ہے ۔‘‘ (۱۵)… فرض نماز کے بعد : ترمذی میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ دعاء کب جلد قبول ہوتی ہے؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ((جَوْفَ اللَّیْلِ الْآخِرِ وَ دُبُرَ الصَّلوٰۃِ الْمَکْتُوْبَۃِ))۔  ’’ رات کے آخری حِصّہ میں اور فرض نمازوں کے بعد ۔‘‘ اور دُبُرَ الصَّلوٰۃِ یا نماز کے پیچھے سے مراد ایک تو یہی ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد کا وقت ہو، جبکہ اس لفظ میں یہ گنجائش بھی موجود ہے کہ اس سے نماز کے آخری حصہ میں یعنی تشہّد و درود شریف کے بعد دعاء کرنا مراد ہو، اور اس حصہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بعض اہم دعاؤں کا التزام کرنا ثابت بھی ہے جیسا کہ: ((اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ …الخ))