کتاب: آداب دعا - صفحہ 70
رات ہے جس کی اہمیّت و فضیلت کے بارے میں قرآن کی ایک مکمّل سورت، سورۃ القدر نازل ہوئی ہے جس میں ارشادِ الٰہی ہے : {اِنَّا أَنْزَلْنَاہُ فِيْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ ۔ وَ مَآ أَدْرَاکَ مَا لَیْلَۃُ الْقَدْرِ ۔ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَہْرٍ ۔ تَنَزَّلُ الْمَلآئِکَۃُ وَ الرُّوْحُ فِیْہَا بِاِذْنِ رَبِّہِمْ مِنْ کُلِّ أَمْرٍ۔ سَلَامٌ ہِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ۔} ’’ ہم نے اِس (قرآن) کو شبِ قدر میں نازل (کرنا شروع) کیا، اور آپ کو کیا معلوم ہے کہ شبِ قدر کیا ہے ؟ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ فرشتے اور روح الامین اس میں اپنے رب کے اِذن سے ہر حکم لے کر اترتے ہیں۔ یہ رات طلوعِ فجر تک سراسر سلامتی ہے ۔‘‘ جبکہ صحیح بخاری ، ابو داؤدو ترمذی اور نسائی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : ((مَنْ قَامَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ اِیْمَاناً وَّ اِحْتِسَاباً غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ))۔  ’’ جس نے لیلۃ القدر میں اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اس کی رضاء کے حصول کیلئے قیام کیا، اس کے سابقہ تمام گناہ بخشے گئے ۔‘‘ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر شبِ قدر معلوم ہوجائے تو پھر کیا کہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہ دعاء کرنا : ((اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ ، فَاعْفُ عَنِّیْ)) ۔