کتاب: آداب دعا - صفحہ 64
’’ سجدوں میں دعاء کرنے کی کوشش کرو، زیادہ قریب ہے کہ تمہاری یہ دعاء قبول کرلی جائے ۔‘‘ (۲)… ہر رات کی ایک مخصوص ساعت : صحیح مسلم اور مسند احمد میں حضرت جابررضی اللہ عنہ سے مروی فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ((اِنَّ فِي اللَّیْلِ لَسَاعَۃً لاَ یُوَافِقُہَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ ، یَسْأَلُ اللّٰہَ تَعَالَیٰ فِیْہَاخَیْراً مِنْ أَمْرِالدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ اِلَّا أَعْطَاہُ اِیّاہُ وَذَالِکَ کُلَّ لَیْلَۃٍ))  ’’ رات میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ دنیا و آخرت کی جس بھی بھلائی کا سوال مسلمان بندہ کا اس میں کرے، اُسے اللہ تعالیٰ ضرور پورا کرے گا ۔ اور یہ گھڑی ہر رات میں ہوتی ہے ‘‘ ۔ (۳)… آدھی رات کو : آدھی رات بھی قبولیّتِ دعاء کا وقت ہے کیونکہ حضرت عثمان بن ابی العاص الثقفی رضی اللہ عنہ سے معجم طبرانی اوسط میں روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ے فرمایا : ((تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَائِ نِصْفَ اللَّیْلِ ، فَیُنَادِیْ منُاَدٍ۔ ہَلْ مِنْ دَاعٍ فَیُسْتَجَابُ لَہٗ ؟ ہَلْ مِنْ سَائِلٍ فَیُعْطَیٰ ؟ ہَلْ مِنْ مَکْرُوْبٍ فَیُفْرَجُ عَنْہٗ ؟ فَلَا یَبْقَیٰ مُسْلِمٌ یَدْعُوْ بِدَعْوَۃٍ اِلَّا اسْتَجَابَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہٗ، اِلَّا زَانِیَۃٌ تَسْعَیٰ بِفَرْجِہَا أَوْ عَشَّاراً))۔