کتاب: آداب دعا - صفحہ 53
’’ اے اللہ! جب تک میرے لیٔے زندگی بہتر ہو مجھے زندہ رکھ اور جب موت میرے حق میں بہتر ہو تو مجھے فوت کردے ۔‘‘ (۲۲) … رونا اور آنسو بہانا : دورانِ دعاء رونا اور آنسو بہانا دعاء کی قبولیّت کیلئے موثّر ترین چیز ہے ۔ صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عَمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ ابراہیم میں وارد حضرت ابراہیم خلیل علیہ السلام کے بارے میں یہ ارشادِ الٰہی پڑھا : { رَبِّ اِنَّہُنَّّ أَضْلَلْنَ کَثِیْراً مِّنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِيْ فَاِنَّہٗ مِنِّیْ وَ مَنْ عَصَانِيْ فَاِنَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ }۔ ’’اے میرے پالنے والے معبود! انہوں نے بہت سے لوگوں کو راہ سے بھٹکا دیا ہے ۔ پس میری تابعداری کرنے والا میرا ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو تُو بہت ہی معاف کرنے اور کرم کرنے والا ہے ۔‘‘ اور قران کریم میں وارد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ قول پڑھا : { اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ وَ اِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَاِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ } ۔ ’’اگر تو اِنہیں سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو اِنہیں معاف فرمادے تو تو زبردست ہے حکمت والا ہے ۔‘‘ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا لیٔے اور ((الَلّٰہُمَّ أُمَّتِیْ أُمَّتِیْ)) ’’ اے اللہ ! میری امّت کو معاف کرنا‘‘ ۔