کتاب: آداب دعا - صفحہ 38
(( کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي ا للّٰه عليه وسلم اِذَا ذَکَرَ اَحَدًا فَدَعَا لَہٗ بَدَئَ بِنَفْسِہٖ ))  ’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کا ذکر فرماتے اور اس کیلئے دعاء فرماتے تو دعاء کا آغاز اپنے آپ سے فرماتے تھے‘‘ ۔ جبکہ معجم طبرانی میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کے یہ الفاظ بھی ہیں : (( کَانَ اِذَا دَعَا بَدَأَ بِنَفْسِہٖ ))  ’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعاء کا آغاز اپنی ذات سے فرماتے تھے ‘‘ ۔ یعنی دُعاء کا آغاز اپنی ذات سے کریں ، پہلے اپنے لیٔے مانگیں پھر اپنے والدین اور دوست و احباب کے لیٔے اور پھر دیگر تمام اہلِ اسلام کو بھی اپنی دعاء میں شامل کرلیں ۔ (۱۰) … جامع دعاء کرنا : اللہ تعالیٰ سے جامع قسم کی دعائیں کریں یعنی جن کے الفاظ کم اور معانی زیادہ ہوں اور ان الفاظ میں دین ودنیا کی بھلائیاں آجائیں جیسا کہ ابو داؤد، ابن حبان،مسند احمد اور مستدرک حاکم میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے : (( کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي ا للّٰه عليه وسلم یَسْتَحِبُّ الْجَوَامِعَ مِنَ الدُّعَائِ وَیَدَعُ مَا سِوَی ذَٰالِکَ ))