کتاب: آداب دعا - صفحہ 32
لَیُصَلِّیْ عَلـَی النَّبِیِّ صلي ا للّٰه عليه وسلم ثُمَّ لَیَدْعُ بَعْدُ مَا شَآئَ )) ۔ ’’ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو اسے چاہیٔے کہ اللہ کی حمد وثناء سے شروع کرے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے اور پھر اپنے لیٔے جو دعاء چاہے مانگے ۔‘‘ اور ایک دوسری حدیث نسائی، ابن حبان، معجم طبرانی اوسط، شعب الایمان بیہقی اور مسند الفردوس دیلمی میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اس میں ہے : ((کُلُّ دُعَائٍ مَحْجُوْبٌ حَتَّیٰ یُصَلَّی عَلَـی النَّبِیِّ صلي ا للّٰه عليه وسلم))۔  ’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے جانے تک ہر دعاء رُکی رہتی ہے ۔‘‘ (۶) … توبہ و اقرارِ گناہ : بندہ اپنے گناہوں اور خطاؤں کا اقرار کرکے توبہ و استغفار کرے اور اپنے رب سے یہ عہد کرے کہ وہ آئندہ ان گناہوں کا ارتکاب نہیں کرے گا ۔ چنانچہ حضرت یونس علیہ السلام کا قصّہ قرآنِ پاک میں معروف ہے کہ انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں اپنی خطاء کا اعتراف کیا اور نجات کیلئے دعاء کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعاء کو شرفِ قبولیّت سے نوازا اور انہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات دلائی جیسا کہ سورۃ الانبیاء،آیت : ۸۷ میں ارشادِ الٰہی ہے : {وَذَي النُّوْنِ اِذْ ذَہَبَ مُغٰـضِباً فَظَنَّ أَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْہِ فَنَادٰی فِي الظُّلُمَاتِ أَن لَّا ٓاِلٰـہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّيْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ}