کتاب: آداب دعا - صفحہ 23
حلال ] چیزیں کھاؤ [ پیو ] ۔‘‘ اِن دو آیات کی تلاوت کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مثال ذکر کی : (( ثُمَّ ذَکَرَ الرَّجُلَ یُطِیْلُ السَّفَرَ اَشْعَثَ اَغْبَرَ یَمُدُّ یَدَیْہِ اِلـٰی السَّمَآئِ :یَا رَبِّ یَا رَبِّ! وَمَطْعَمُہٗ حَرَامٌ وَمَشْرَبُہٗ حَرَامٌ وَمَلْبَسُہٗ حَرَامٌ وَغُذِِّیَ بِالْحَرَامِ فَاَنّـٰی یُسْتَجَابُ لِذٰلِکَ ))  ’’ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کا تذکرہ کیا جو لمبا سفر کرتا ہے ، بال بکھرے ہوئے ہیں ، کپڑے میلے کچیلے ہیں ، آسمان کی طرف ہاتھ پھیلاتا ہے [ اور کہتا ہے: ] اے میرے رب! اے میرے رب! جبکہ اس کا کھا نا حرام، اس کا پینا حرام، اس کا لباس حرام اور اس کی پرورش [ پہلے ہی سے ] حرام سے ہوئی ہے، اب کہاں سے اس کی دُعا قبول ہو جائے گی ؟ ۔‘‘ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر وہ آدمی جس کا کھانا ولباس ہی حرام کا ہو، جس کے جسم کی رگ رگ اور ریشے ریشے میں حرام پیوست ہو چکا ہو ، اس کی دعاء اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرے گا ، جب تک کہ وہ اُس اکلِ حرام سے تائب ہو کر رزقِ حلال کا اہتمام نہیں کرے گا ۔ 2 خلوصِ کامل وحضورِ قلب : قبولیّتِ دعاء کی دوسری شرط یہ ہے کہ داعی کا دل اخلاص ، انابت ، حضورِ قلب اور سوز ویقین سے معمور ہو ، صرف اللہ وحدہٗ لا شریک کا خیال دل ودماغ اور زبان پر ہو غیر کا خیال بالکل نہ ہو ، کیونکہ دعاء فقط اسی کا نام نہیں کہ دو چار باتیں یاد کرلیں ، اور نمازوں کے بعد ان کو صرف زبان سے یاد کیٔے ہوئے سبق کی طرح پڑھ دیا جائے ،یہ دعاء نہیں محض دعاء کی نقل ہے ۔